LYRICS - TADFEEN SHAHZADI SAKINA - SYED RAZA ABBAS ZAIDI - MUHARRAM 1443 - 2021

LYRICS - TADFEEN SHAHZADI SAKINA - SYED RAZA ABBAS ZAIDI - MUHARRAM 1443 - 2021


Noha Lyrics
-----------------------------------------------
ہاے

بیان کرتا ہوں زنداں میں کیا قیامت تھی
غریب بابا سے جسدم غریب بیٹی ملی
وہ اپنے بابا کے سر سے لپٹ کے رونے لگی
تڑپ کے لی جو سکینہؑ نے آخری ہچکی
کلیجہ پھٹتا ہے کیسے سناؤں وہ منظر
رکھے تھے بیٹی نے رخسار باپ کے منہ پر

اندھیری قید میں پھر کیا ھوا سنو آگے
بہن کو دیکھا جو بابا کے سر سے لپٹے ھوئے
تڑپ کے بالی سکینہؑ کے پاس آ پہنچے
جو نبض دیکھی تو سجادؑ نے کہا روکے
اُٹھارہی تھی جوغم اب وہ تھک گئی غم سے
پھوپی ہماری سکینہؑ بچھڑ گئی ہم سے

لرز رھا تھا وہ زندان آہ و گریہ سے
یہ بولے عابدِ مضطر غریبِ زھراؑ سے
چھڑاؤں کیسے میں سر آپ کا سکینہؑ سے
ملی ہے کتنے دنوں بعد اپنے بابا سے
بہت غریب ہوں یہ غم اُٹھا نہ پاؤنگا
بہن کی گود سے میں سر چھڑا نہ پاؤنگا

سرِ حُسینؑ چھڑایا جو یاعلیؑ کہکر
کہا سکینہؑ سے تم پر سلام اے خواہر
نہ جانے کتنے ہیں احسان آپکے مجھ پر
یہ بھائی کیسے اُتارے گا قبر کے اندر
یہ دیکھو جکڑا ہے زنجیر میں ہمارا بدن
تمہارا لاشہ نہ بھائی سے اُٹھ سکے گا بہن

ستمگروں نے جو کربوبلا میں باندھی تھی
گلے میں ہوگئی پیوست ھائے وہ رسی
چھنی تھی بالیاں ہیں کان آج بھی زخمی
ستم کی حد یہ ہوئی آپ مرگئیں پیاسی
عیاں ہیں چہرےپہ ابتک نشاں طمانچوں کے
چھپاؤں کیسے بھلا میں یہ نیل گالوں کے

وہ راہِ شام وہ غربت بھلاؤں میں کیسے
اک ایسا موڑ تھا غازیؑ کا سر تھا نیزے پہ
جب اُنکے سامنے لاکر پکڑ کے بالوں سے
طمانچےمارےتھےظالم نےتمکوھنس ھنس کے
لعین کہتا تھا عباسؑ اب نہ آئیگا
نہیں ھے کوئی جو دُروں سے اب بچائیگا

پکاریں لاشے سکینہؑ پہ زینبِؑ مضطر
یہ کربلا میں قیامت گزر گئی تم پر
پھوپی کے ساتھ کھڑی دیکھتی رہی منظر
چلا تھا بھائی کے سوکھے گلے پہ جب خنجر
کہا یہ بھائی نے دو میرا ساتھ اے زینبؑ
رکھو سکینہؑ کی آنکھوں پہ ھاتھ اے زینبؑ

پھوپی بھتیجے سےکہتی تھیں مت کروفریاد
تمہارا ساتھ میں دیتی ہوں سیدِ سجادؑ
پڑی ہے ہم پہ قیامت سے بھی بڑی اُفتاد
تمہاری طرح میرے ہاتھ بھی نہیں آزاد
ھے اب یہ شام کا زندان ہی وطن اِسکا
یہی جلا ہوا کُرتا ھے اب کفن اِسکا

کہا یہ ثانیِ زھراؑ نے بیبیوں آؤ
جنازہ بالی سکینہؑ کا ساتھ اُٹھواؤ
جو اپنے بابا کو روتی تھی اُسکو دفناؤ
نہیں ہے پانی تو تُربت پہ اشک برساؤ
وہ رات آئی تھی ذیشان اور رضا کیسی
لحد میں سوگئی بیٹی غریبِ زہراؑ کی



LYRICS - TADFEEN SHAHZADI SAKINA - SYED RAZA ABBAS ZAIDI - MUHARRAM 1443 - 2021 LYRICS - TADFEEN SHAHZADI SAKINA - SYED RAZA ABBAS ZAIDI - MUHARRAM 1443 - 2021 Reviewed by Nohayonline.lyrics on 12:29 AM Rating: 5

No comments:

All lyrics are Provided By Videos Caption and Noha Video Description. Any Problem Email Me. Powered by Blogger.